میانمار:مارشل لا لگانے والے جنرل من آنگ کون ہیں؟

0


میانمار میں یکم فروری 2021 کو مارشل لا لگانے والے آرمی چیف جنرل من آنگ لینگ کو رواں سال جولائی میں اپنے عہدے سے دستبردار ہو کر کمان نئے آرمی چیف کو سونپنی تھی۔

جنرل من آنگ نے مارشل لا لگانے سے قبل حکومت سے انتخابات کراکر اقتدار منتخب حکومت کو دینے کا عزم بھی کیا تھا، تاہم وقت آنے پر ایسا نہ ہوسکا۔

میانمار میں پیر یکم فروری کو نو منتخب پارلیمان کے پہلے ہی اجلاس سے قبل جنرل لینگ نے خود اقتدار سنبھال کر ملک کی سربراہ آنگ سان سوچی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔

میانمار میں مارشل لا لگانے والے آرمی چیف جنرل من آنگ کی عمر 65 سال ہے۔

فوج میں من آنگ کی شہرت ایک خاموش طبع فوجی کی حیثیت سے مشہور ہے، تاہم وہ اپنے کام میں اتنے ہی ہوشیار ہیں۔ من آنگ میانمار کے جنوبی شہر ڈاوے میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم ینگون میں تعلیم حاصل کی۔ دو سال تک لا اسکول میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد وہ میانمار کی فوجی اکیڈمی میں داخل ہوئے۔

رائٹرز کے مطابق من آنگ کے بجپن کے کچھ دوستوں کے مطابق وہ ایک کم گو انسان ہیں۔ لینگ فوج کے سربراہ بننے کے اُمیدواروں میں شامل نہیں تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ ترقی پاتے گئے اور اس عہدے تک پہنچ گئے۔

بھارت کے جندل اسکول آف انٹرنیشنل افیئرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کپگن نے ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ وہ ایسی شخصیت نہیں تھے کہ برمی فوج میں اپنا کوئی خاص مقام پیدا کرسکتے۔

من آنگ لینگ نے فوج میں تربیت کے بعد 88 ویں لائٹ انفنٹری ڈویژن میں شمولت حاصل کی، جسے کرنل تھان شا کمانڈ کر رہے تھے۔ لینگ نے شا کو اپنا اُستاد بنا لیا۔ بعد ازاں جنرل بننے والے تھان شاہ 1992 سے 2011 تک میانمار میں فوجی دورِ حکومت میں ملک کے سربراہ رہے۔

سال2011 میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد جنرل شا نے من آنگ لینگ کو اپنا جانشین مقرر کیا اور وہ طویل فوجی دورِ حکومت کے بعد ملک کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ کپگن کے مطابق اس وقت برمی فوج میں بہت سے سینیر جرنیل اس منصب کے اہل تھے۔ تاہم جنرل شا نے لینگ کو کمانڈر ان چیف بنایا تاکہ وہ فوج میں اُن کے نظریے کو برقرار رکھ سکیں۔

تجزیہ کاروں کے بقول 2011 میں فوجی حکومت کے خاتمے کے باوجود ملک کی طاقت ور فوج نے سیاسی معاملات میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ گزشتہ سالوں کے دوران لینگ سویلین حکومت سے براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے قومی رہنما کے طور پر غیر ملکی دورے کرتے رہے۔

ان دوروں کی سوشل میڈیا پر بھی بھرپور کوریج کی جاتی رہی۔ تجزیہ کاروں کے بقول اس کا مقصد عوام کی نظروں میں ان کی اہمیت میں اضافہ کرنا تھا۔ تاہم عالمی سطح پر روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مبینہ مظالم کے باعث اُن کی ساکھ متاثر ہوتی رہی۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور مغربی ممالک 2016 میں روہنگیا مسلمانوں کی مبینہ نسل کشی کا ذمہ دار اُنہیں ٹھیراتے رہے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کی سال 2017 میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ جنرل من آنگ لینگ سال 2020 میں صدر بننے کا ارادہ رکھتے تھے۔ تاہم گزشتہ سال نومبر کے انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ یونین سولیڈ یریٹی اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) بری طرح ناکام ہوئی جس کے بعد تجزیہ کاروں کے بقول فوجی سربراہ کے عزائم کو دھچکا لگا۔

واضح رہے کہ سال 2007 میں فوجی حکومت کی جانب سے تیل کی قیمتوں میں سبسڈی کے خاتمے کے بعد حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا تھا جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے تھے۔

LEAVE A REPLY