لاہورہائی کورٹ کا جانوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے اہم فیصلہ

0


لاہور : ہائی کورٹ نے جانوروں کےحقوق کےتحفظ کیلئےاہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا تحفظ جنگلی حیات ایکٹ کےتحت کوئی بھی فرد بغیر لائسنس ریچھ کو قبضے میں رکھنے کا مجازنہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ نے جانوروں کےحقوق کےتحفظ کیلئےاہم فیصلہ جاری کر دیا ، جسٹس سہیل ناصرنےایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جب ریچھ کوجنگلی جانورقراردیاگیاہےتوعدالت اسکے برعکس کیسےفیصلہ دےسکتی ہے، جنگلی جانور لوگوں کی مددکےبغیراپنی خوراک اور رہائش خودبناتاہے،سدھایا نہیں جاسکتا۔

عدالتی فیصلے میں کہا ہے کہ عدالت کےذہن میں حبس بےجامیں رکھے جانوروں کےحقوق کاسوال شامل حال ہوا، تحفظ جنگلی حیات ایکٹ کےتحت ریچھ نسل کشی کے خطرےکے زمرے میں آتاہے، تحفظ جنگلی حیات ایکٹ کےتحت کوئی بھی فرد بغیرلائسنس ریچھ کو قبضے میں رکھنے کا مجازنہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ قانون کی منشاہرگزنہیں کہ جنگلی جانور کو زمین کے کسی ایک ٹکرے تک محدود کر دیا جائے، قانون لائسنس کےبغیرکسی بھی جنگلی جانور کوقبضےمیں رکھنےکی اجازت نہیں دیتا، جنگلی جانوررکھنےکیلئےلائسنس کاموجودہونااورلائسنس کیلئے درخواست دیناعلیحدہ نکات ہیں۔

جسٹس سہیل ناصر نے کہا کالاریچھ دنیاکےخطرناک ترین ممالیہ جانوروں میں ساتویں نمبرپرآتاہے، تمام جانوروں کےوجودکی موجودگی انکےحقوق کافلسفہ ہے، جانوربھی انسانوں کی طرح اپنے وجود کی موجودگی کے حقدار ہیں۔

یاد رہے طاہرعباس جنگلی حیات افزائش نسل فارم نے 2 کالے ریچھوں کوحبس بے جا میں رکھاہواتھا ، جس کے بعد محکمہ تحفظ جنگلی حیات نے کالے ریچھوں کو طاہر عباس کےغیرقانونی قبضے سےبازیاب کروایا تھا۔

بعد ازاں سیشن عدالت نےلائسنس درخواست کےزیرالتواہونےکی بنیادپرریچھ سپرداری پر دینے کا حکم دیا تھا۔

LEAVE A REPLY