کراچی میں تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارہ کے ملبے سےملنے والی خطیر رقم کے 3 دعویدار سامنے آ گئے، 3 کروڑ سے زائد کی رقم قومی خزانے میں جمع ہوگی۔

0


اسلام آباد :گذشتہ برس کراچی میں تباہ ہونے والی پی آئی اے کے طیارے کے ملبے سے ملنے والی خطیر رقم کے تین دعویدار سامنے آنے کے باجود وہ رقم ان میں سے کسی کو بھی نہیں ملے گی اور وہ قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق 22 مئی 2020 کو پی آئی اے کی فلائٹ کراچی میں لینڈنگ کرتے ہوئے ائیرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی کے مکانات پرکریش کر گئی جس میں 95 جانوں کا ضیاع ہوا۔ طیارے کے ملبے سے ایک سوٹ کیس ملا جس میں 3 کروڑ روپے سے زائد کی کرنسی موجود تھی جس میں کچھ ادھ جلی بھی تھی۔

اس رقم کے تین دعویدار سامنے آئے مگر کوئی بھی اصل رقم بتانے میں ناکام رہا۔مگر کچھ ماہ بعد غالبا تینوں دعویداروں کو پی آئی اے کے عملے کی ملی بھگت سے اصل رقم کی مالیت کے بالکل درست اعداد و شمار معلوم ہو گئے جب کہ وہ رقم پی آئی اے کے لاکرز میں رکھی ہوئی تھی جس کے بعد تینوں دعویداروں نے دوبارہ پی آئی اے سے رابطہ کیا اور اصل اعداد و شمار بتائے مگر جب ان سے وہ سرٹیفیکیٹ طلب کیے گئے تو جو رقم منتقلی کے لیے لازمی بنوانا ہوتا ہے تو تینوں ناکام رہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ رقم اسٹیٹ بینک میں جمع کروا دی جائے گی،پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ کے مطابق بریف کیس میں موجود رقم کے تین دعویدار سامنے آئے تھے مگر وہ ضروری دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ رقم قومی خزانے میں جمع کروا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ لینڈنگ کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔پہلی لینڈنگ پر جہاز رن وے کے درمیان میں آکر ٹکرایا لیکن پائلٹ دوبارہ طیارے کو اڑا کر لے گیا رپورٹ میں کہا گیا کہ پہلی لینڈنگ کے بعد پائلٹ کو جہاز اڑانا نہیں چاہیے تھا دوبارہ ٹیک آف کے بعد جہاز کو 17 منٹ تک فضا میں اڑایا گیا اور اسی دوران انجن فیل ہوگئے. پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خفیظ نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق طیارے میں فنی خرابی نہیں تھی بلکہ انسانی غلطی کی وجہ سے ہی حادثہ پیش آیا۔ طیارے کے کاک پٹ کریو اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو ان ڈائریکٹ حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا جبکہ پی آئی اے اور سی اے اے کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here