پی ٹی آئی رہنماسیف اللہ کوسینیٹ الیکشن میں حصہ لینےسےروک دیا

0


الیکشن ٹریبونل نے پی ٹی آئی رہنما سیف اللہ ابڑو کو سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔

الیکشن ٹریبونل نے پیر 22 فروری کو ریٹرننگ افسر کا فیصلہ کالعدم دیتے ہوئے قرار سیف اللہ ابڑو کو سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کا فیصلہ جاری کیا۔

ٹریبونل کا اپنے فیصلے میں کہنا تھا کہ سیف اللہ ابڑو کے خلاف اپیل میں لگائے گئے اعتراضات ثابت ہوئے ہیں۔ سیف اللہ ابڑو ٹیکنوکریٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں پی ٹی آئی امیدوار سیف اللہ ابڑو کے خلاف الیکشن ٹریبونل میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست غلام مصطفیٰ کی جانب سے دائر کی گئی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ سیف اللہ نے کاغذات نامزدگی میں اثاثے چھپائے۔ سیف اللہ ابڑو کے اثاثوں میں اچانک کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ دائر درخواست کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریٹرننگ افسر نے سنے بغیر سیف اللہ کے کاغذات نامزدگی منظور کيے تھے۔

اس سے قبل بھی کراچی میں انصاف ہاؤس میں ایم پی اے خرم شیر زمان نے پریس کانفرنس کے دوران سیف ﷲ ابڑو کو ٹیکنو کریٹ کی نشست پر سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ سیف ﷲ ابڑو پیپلز پارٹی کی قیادت کا قریبی ساتھی رہا ہے۔ سیف ﷲ ابڑو سال 2018 میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے، جب کہ متعدد رہنما ایسے بھی ہیں جو سالہاسال پارٹی کے لیے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2018 کے الیکشن میں سیف اللہ ابڑو این اے 201 لاڑکانہ 2 کی سیٹ پر آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوئے تھے۔

LEAVE A REPLY