پی ٹی آئی کے ظہرانے میں ایم کیو ایم کی شرکت سے اچانک معذرت نے ہلچل پیدا کر دی

0


کراچی: سینیٹ اجلاس سے قبل سندھ میں پی ٹی آئی اتحادیوں کی بیٹھک لگی تو اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی، اس واقعے نے ایک بار پھر سیاست میں ہل چل پیدا کر دی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اہم رکن اور مشیر جہاز رانی محمود مولی نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر اتحادیوں کو ظہرانے پر مدعو کیا، وفاقی وزیر اسد عمر اور مقامی قیادت انتظار کرتی رہی لیکن ایم کیو ایم نے ظہرانے میں شرکت سے آخری لمحات میں معذرت کر لی۔

ذرائع پی ٹی آئی نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے وفد نے ظہرانے میں شرکت کی حامی بھری تھی، جی ڈی اے اراکین پی ٹی آئی رہنما محمود مولوی کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے تھے، اور سینیٹ انتخابات سے قبل آج کی ملاقات کو بہت اہم قرار دیا جا رہا تھا، لیکن پھر اچانک اہم اتحادی جماعت کے فیصلے نے سب کے اندر بے چینی پیدا کر دی۔

آج ہونے والے اجلاس میں فیصل واوڈا بھی شریک تھے، ایم کیو ایم کی عدم شرکت کے بعد وفاقی وزیر علی زیدی نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ایم کیو ایم والے ہمارے اتحادی ہیں، پیپلز پارٹی کی ایم کیو ایم سے ملاقات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کی مصروفیت تھی اسی لیے نہیں آ سکے۔

علی زیدی کی جانب سے یہ وضاحت بہ ذات خود معاملے کو مشکوک بنا رہی ہے، ایسے میں جب کہ صوبائی وزیر برائے محنت و تعلیم سعید غنی نے ایک بیان میں ایم کیو ایم کو کھلی پیش کش کر دی ہے، انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں آج کہا کہ ہمارے دوست کل ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملے، ہمارے پاس سینیٹ کی اضافی سیٹس ہیں، ایم کیو ایم ہمارے ساتھ آتی ہے تو ان کو ہم اضافی سیٹ دے سکتے ہیں۔

سعید غنی نے وزارت کی بھی پیش کش کی، کہا ایم کیو ایم اپنا فائدہ چاہتی ہے تو ہمارے ساتھ آئے، نہیں تو مقابلہ کرنا پڑے گا، سندھ میں حکومت کا حصہ بننے پر ایم کیو ایم کو وزارت بھی مل سکتی ہے۔

ادھر جب معاملہ میڈیا میں اچھلنے لگا تو ایم کیو ایم کو بیان دینا پڑا، ایم کیو ایم نے چلنے والی تمام خبروں کو غلط قرار دے دیا، ترجمان نے وضاحت کی کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان صوبائی اسمبلی تنظیمی مصروفیت کے باعث تحریک انصاف کے ظہرانے میں شریک نہ ہو سکے، تمام جماعتیں اپنے طور پر سینیٹ انتخابات کی تیاری میں مصروف ہیں اسی وجہ سے ظہرانے میں شرکت ممکن نہ ہوئی۔

ترجمان نے مزید کہا ایم کیو ایم پاکستان، تحریک انصاف اور جی ڈے اے کی قیادت سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مستقل رابطے میں ہیں اور اس حوالے سے کوئی غلط فہمی درمیان میں نہیں، اتحادیوں کے درمیان غلط خبریں چلانے سے گریز کیا جائے۔

دوسری طرف گورنر سندھ کے ذرائع نے بھی خبر دی کہ ان کا ایم کیو ایم قیادت سے مکمل رابطہ ہے، سینیٹ کے حوالے سے مشاورت بھی مکمل کی جاچکی ہے۔ دریں اثنا، گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے ملاقات بھی کی، جس میں رکن صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن اور فیصل سبزواری شامل تھے۔

وفد نے گورنر سندھ کو اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا، وفد نے کہا کہ سندھ پولیس نے اراکین صوبائی اسمبلی سے سیکیورٹی واپس لے لی ہے، ان نازک حالات میں سیکیورٹی واپس لینے پر تشویش ہے، گورنر سندھ سے درخواست ہے کہ وزیر اعظم پاکستان تک پیغام پہنچایا جائے۔

اس سلسلے میں آنے والے چند دنوں میں صورت حال مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

LEAVE A REPLY