پاکستان اور چین نے ناممکن کو ممکن کردکھایا بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے بعدسی پیک میں حیرت انگیز پیشرفت ، پوری دنیا دنگ رہ گئی

0


اسلام آباد سی پیک نے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے بعد 2021 میں پاکستان کے جدید مستقبل کی تشکیل کی صلاحیت والے علاقوں میں تیزی سے اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔سرمایہ کاری بورڈ کے حکام کے مطابق شفافیت، بدعنوانی سے پاک اور تیز رفتار پیشرفت کیروایات کو برقرار رکھتے ہوئے سی پیک 2021 کا ایکشن پلان قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک حیرت انگیز پیشرفت ہے۔ سی پیک نے 2021 کے آغاز سے ہی زراعت ، خصوصی اقتصادی زون ، گوادر ، ایم ایل ون ،ریل نیٹ ورک ، بزنس ٹو بزنس کاروبار ، ادویات

سازی کی صنعت ،چین پاکستان کا آزادانہ تجارت کا معاہدہ فیز ٹو ، ڈی کاربونیشن ، تجارت ، تجدید توانائی ، آپٹک فائبر کیبل ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، ایکو ٹورزم ، کلچر ، نیومیڈیا ، ہنرمندی کی ترقی ، روزگار پیدا کرنا ، اور ہائی ٹیک بنیادی انفراسٹرکچر پر توجہ دی۔ 2021 کی پہلی میڈیا بریفنگ میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے واضح کیا کہ 2021 میں سی پیک زرعی شعبے کو فروغ دے گا کیونکہ پاکستان ایک زراعت کا ملک ہے۔انہوں نے چین کے لئے ترقی کے چینی ماڈل کوپاکستان کے لئے بہترین ماڈل کے طور پر اپنانے کے لئے اپنی کا اعادہ کیا اور کہا کہ اگر ہم دنیا کے کسی بھی ملک سے سبق سیکھ سکتے ہیں تو وہ چین ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین نےپچھلے 30 سالوں میں جس رفتار سے ترقی کی اس سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ نئے سال میں سی پیک کی کامیابی کے حوالے سے روشن امکانات ہیں ، مثال کے طور پر ، خصوصی اقتصادی زون کا آغاز ، چینی صنعت ، زراعت اور تعلیم کا تبادلہ ، اس کے علاوہ یہ پاکستان اور چین کےمابین سفارتی تعلقات قائم کرنے کی 70 ویں سالگرہ ہے جس کا مطلب ہے کہ عوام سے زیادہ رابطے ہوں گے۔ ہندوستان اور اس کے مغربی ممالک کے پروپیگنڈے اور جعلی خبروں کا مقابلہ کر سکے جو کہ بی آر آئی / سی پیک کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ سی پیک پروجیکٹ کےسابق ڈائریکٹر اور سی ای او کے پی بی او آئی ٹی اینڈ سیزا حسن داودبٹ نے کہا کہ 2021 ایک اہم سال ہے کیونکہ دنیا کووڈ۔ 19 کے علاج اور معاشی بحران سے نکلنے کے اقدامات پر غور کررہی ہے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ایم ایل ون پروجیکٹ ایک مضبوط آغاز کرے گا۔ دریں اثنا رشکئی، دھابیجی اور فیصل آباد میں ترقیاتی کام مناسب طریقے سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی ترقی کیلئے بھی کم از کم 10 سرمایہ کاروں کے ساتھ پورٹ ہولڈنگ کمپنی کے ساتھ مل کر کام کر نا ضروری ہے۔ ایسٹ بے ایکسپریس کو بھی مکمل کیا جائے گا اور گوادر ائیرپورٹ ، اسپتالاور پیشہ ورانہ مرکز پر کام مستقل اور مثبت انداز میں ہو رہا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ 2021 مجموعی طور پر ایک اہم سال ہوگا۔سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ سی پیک 2021 میں مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک میں رسد کے انفراسٹرکچر میں بہتری لانےوالے ایم ایل ون منصوبے کی شروعات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون میں پاکستانی علاقے کا 80 فیصد اور پاکستان کی 78 فیصد آبادی شامل ہوگی۔ سی پیک 2021 کارپوریٹ فارمن[گ ، بیج ٹیکنالوجی ، ریموٹ سینسنگ ، جغرافیائی انفارمیشن سسٹم ، فوڈ پروسیسنگ اور کٹائی سے پہلےاور کٹائی کے بعد ہینڈلنگ پر توجہ مرکوز ہے۔ اس میں اور کیڑوں اور بیماریوں کا کنٹرول، زرعی پیداوار ، فصلوں کے جینیاتی وسائل ، مویشیوں،مرغیوں اور پودوں کی نئی نسلوں کے انتخاب اور افزائش ، ماہی گیری اور ، نئی اعلی پیداوار والی اقسام کی تحقیق اور ترقی پر زور دیا گیا ہے۔زراعت پر مبنی تعاون کے تحت پاکستان میں پودوں میں کیڑوں کے خاتمے کے پائیدار انتظام کیلئے ایک مرکز کی تعمیر کے لئے تیزی سے کوششیں جاری ہیں ، جس میں نگرانی اور ابتدائی انتباہی ٹیکنالوجی ، تحقیق اور ترقی ، معیارات کی باہمی پہچان جس میں (پاکستان سے چین تک خوراک کی برآمدات میں اضافہ) ، اہلکاروں کی تربیت اور ہنگامی روک تھام اور کنٹرول شامل ہیں اس فریم ورک کے تحت ملتان میں مشترکہ کاٹن ریسرچ لیبارٹری قائم کی جائے گی۔

LEAVE A REPLY