وزیر اعظم صاحب کہتے ہیں لوگ بھوک سے مرتے ہیں تو میں کیا کروں، قمر زمان کائرہ کا حیران کن دعویٰ

0


لاہور  پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ عالمی ادارے حکومت کو سند دے رہے ہیں کہ کرپشن بڑھ گئی ہے ،عام آدمی سے پوچھیںاس کے کیا حالات ہیں،وزیر اعظم رہتے پاکستان میں ہیں ،حکومت پاکستان میں کرتے ہیںلیکن ان کو کبھی ایران ، کبھی سعودی ارب اورکبھی چائنہ کے خواب آتے ہیں،براڈ شیٹ کیس کو حکومت نے خاص رنگ دیا ہے،ہمیں توقع ہیںعظمت سعید اس کیس سے الگ ہوجائیں گے ،کل عوام عظمت سعید کو نہیں مانیں گے،ابھی ہم نے عدم اعتماد کا نام لیا ہے تو اس کے اثرات سامنے

آنا شروع ہوگئے ہیں،آج وزیر اعظم پچاس پچاس کروڑ کی گرانٹ دے رہے ہیں لیکن یہ پھر بھی بچ نہیں پائے گی ِ، فاشسٹ حکومت نے طلبہ کو بھی کریمنل کیسز میں گرفتار کیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ گرفتار طلبہ کو فی الفور رہا کیا جائے ۔ دیگر رہنمائو ں کے ہمرا ہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ یہ نعرے لگاتے تھے سود دن میں ملک سے کرپشن ختم کر دیں گے لیکن حکومت کوآئے پونے تین سال ہوگئے کچھ نہیں کیا ،پاکستان کے عوام چیخ رہے ہیں،عالمی ادارے ان کو سند دے رہے ہیں کہ کرپشن بڑھ گئی ہے ،آج یہ لوگ ہر معاملے پر یو ٹرن لے رہے ہیں،جو بابو ان کو سمجھاتے ہیں وہ ہمیں بھی سمجھاتے تھے ،وزیر اعظم صاحب کہتے ہیں لوگ بھوک سے مرتے ہیں تو میں کیا کروں۔ انہوں نے کہا کہ براڈ شیٹ پر ایک کمیشن بنا ہے ،براڈ شیٹ کیس کو حکومت نے خاص رنگ دیا ہے،ہمیں توقع ہیں عظمت سعید اس کیس سے الگ ہوجائیں گے ،کل کو عوام عظمت سعید کو نہیں مانے گے ،جو کیس براڈ شیٹ میں ڈالنے ہیں ڈالولیکن پہلے چینی کی رپورٹ میں آپ کے اپنے لوگ سامنے آ گئے ہیں،آج براڈ شیٹ کو اس لئے چلارہے ہیں کیونکہ اپنے لوگ پکڑے جانے لگ گئے ہیں،ہمارے کیسز دوبارہ نکالنے ہیں تو نکال لو،فارن فنڈنگ کیس میں جب یہ پھنس گئے تو انھوں نے شور مچانا شروع کردیا،براڈ شیٹ کے ایشو کو الگ رکھیں، ہم براڈ شیٹ کیس کو گدلا نہیں ہونے دیں گے ، ابھی ہم نے عدم اعتماد کا نام لیا تو اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ، پونے تین سال سے جو ایم این ایز بلارہے تھے آج وزیر اعظم پچاس پچاس کروڑ کی گرانٹ دے رہے ہیں، یہ بچ نہیں پائیں گے جس جس نے اپنی پارٹی کو چھوڑا ہے وہ پھر ختم ہوگیا،ٹھنڈ بہت زیادہ ہوگئی تھی موسم میں پی ڈی ایم ٹھنڈی نہیں پڑی ، ہم رائے عامہ ہموار کریں گے جلسے جلوس کریں گے ،استعفے آخری آپشن ہے ۔انہوںنے کہاکہمولانا فضل الرحمان ہمارے سربراہ ہیں، پیپلز پارٹی نے سینیٹ انتخابات پر بلیک میل کر کے نہیں منوایا۔انہوںنے کہاکہ عمران خان نے اپنے ادوار میں کیا کیا ہے کیا کارکردگی دکھائی ہے ، عوام کو ریلیف دینے کا کہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پچھلی حکومتوں کے قرضے اتار رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے بعد جو حکومت آئے گی وہ کیا کرے گی ۔ عمران خان جو قرضے لے رہے ہیں وہ کون اتارے گا۔ گورنر پنجاب کو سیاسی معاملات میں نہیں آنا چاہیے۔سینٹ کے الیکشن میں جو حالات ہے اس سے بہتر پرفارم کریںگے ۔پی پی پی اس بنیاد پر بنی ہے کہ ہم فوجی حاکمیت کے ہمیشہ خلاف رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ لاہور میں فاشسٹ حکومت نے طلبہ کو بھی کریمنل کیسز میں گرفتار کیایہ حکومت سیاسی کارکنوں، کسانوں اور طلبہ پر تشدد کرتی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ گرفتار طلبہ کو فی الفور رہا کیا جائے۔براڈ شیٹ کیس میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا جو کہ ایک تماشہ ہے،سپریم کورٹ میں صرف ایک جج کیس کی سماعت نہیں کرتا بلکہ دو یا زائد ججز کیس سنتے ہیں تاکہ غلطی کا امکان کم ہو،ہمیں امید ہے عظمت سعید خود ہی کیس سےالگ ہو جائیں گے،آپ نے براڈ شیٹ میں جو جو ڈالنا ہے ڈال دیں مگر یہ طریقہ کار ٹھیک نہیں۔چینی کے کیس میں کمیشن بنا کر فیصلہ کرنے کا اعلان ہواجب چینی کیس میں اپنے ہی لوگ سامنے آئے تو رپورٹ کو التوا میں ڈال دیا۔تیل کیس میں بھی ایسے ہی کیا گیا اور اب براڈ شیٹ میں بھی یہی ہو رہا ہے،اس ملک میں بہت سارے کمیشن بنے، میمو سکینڈل بھی آیا، وہ سب کہاں گئے؟،ہمارے خلاف کیسز چلا کوئی اعتراض نہیں ہے مگر کرنٹ ایشوز کو پیچھے مت چھوڑو،الیکشن کمیشن میں جب یہ خود فارن فنڈنگ میں پھنسیتو پیپلز پارٹی کیخلاف بھی ایک فرمائشی پٹیشن آگئی،ہمارے خلاف الزامات کا جواب ہم دیں گے مگر آپ کیخلاف تو آپکے گھر کے آدمی نے ساری تفصیلات دے دی ہیں،ابھی ہم نے عدم اعتماد کا نام ہی لیا ہے فیصلہ نہیں کیا،عدم اعتماد لانے سے پہلے ہی حکومت پریشان ہو گئی ہے،ہم نے پہلے دن سے کہا تھا کہ استعفی آخری آپشن ہیںیہ غلط فہمی پیدا کی گئی کہ پیپلز پارٹی استعفی دینا نہیں چاہتی،پی ڈی ایم میں اسمبلیوں سے استعفوں کا فیصلہ ضرور ہوا تھا مگر ہم نے کہا تھا کہ ہم مشورہ کر کے جواب دیں گے،ہماری سی ای سی میٹنگ میں طے پایا کہ استعفے ضرور دئیے جائیں گے مگر باقی آپشنز پہلے استعمال ہونے چاہیے،ہم نے پی ڈی ایم اجلاس میں اپنی سی ای سی کی تجویز رکھی جو باقی جماعتوں نے بھی تسلیم کی۔

LEAVE A REPLY