لوگوں کوریلیف دینےکےبجائےوزیراعظم فون پرلگےہیں،شاہدخاقان

0


مسلم لیگ ن کےرہنما شاہد خاقان عباسی نےوزیراعظم کی جانب سےٹیلی فون پرعوام سےبات کرنےکووقت کا ضیاع قراردیا۔انھوں نےپیٹرول پر 45 روپے ٹیکس ظلم قراردیتے ہوئےسوال اٹھایاکہ پیٹرولیم مصنوعات پرٹیکس کا یہ پیسہ کہاں جارہا ہے۔

منگل کواسلام آباد کی احتساب عدالت کےباہرمیڈیا سے بات کرتےہوئےشاہدخاقان عباسی نےدو ٹوک کہا کہ نئےپاکستان کےخلاف ہیں اوراس کو نہیں مانتے ہیں۔لوگوں کوریلیف دینےکےبجائے وزیراعظم ٹیلی فون پرلگےہوئےہیں۔4 گھنٹےلگا کروزیراعظم نےخود ایڈیٹنگ کرکے1 گھنٹہ عوام کا ضائع کردیا۔

نیب سے متعلق سابق وزیراعظم نےکہا کہ نیب نےقوم کے10 ارب روپے ضائع کیےاور یہ خودقابلِ احتساب ہے تاہم چیئرمین نیب صرف اپوزیشن پرکیسز بنانے پرہی بضد ہیں۔3 سال میں نیب کونوازشریف کےخلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔جس ملک میں انصاف نہ رہےوہ نہیں چلتا۔

پیٹرول پر ٹیکس سے متعلق شاہدخاقان کا کہنا تھا کہ سال 2018 میں پٹرول پر15 روپے اور آج 45 روپے ٹیکس ہے۔عمران خان اس ٹیکس کا حساب دیں۔ ملک میں پٹرول کی قیمت 75 روپے فی لیٹرسےزیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

پٹرول پر46 روپے9 پیسےاورڈیزل پر47 روپے 89 پیسےفی لیٹرتک ٹیکسز وصول کئےجارہےہیں۔پٹرول پرلیوی 21 روپےاورڈیزل پر22.11 فی لیٹرہے۔

پٹرول پرکمپنی مارجن 45 پیسےاورڈیلرزمارجن میں 58 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔ ڈیزل پرکمپنی مارجن 45 پیسےاورڈیلرزمارجن میں 50 پیسےاضافہ متوقع ہے۔اضافے کے بعد پٹرول پر کمپنی مارجن 2.81 سے بڑھ کر 3.26 اور ڈیلرز مارجن 3.70 سے بڑھ کر 4.28 روپے ہو جائے گا۔ڈیزل پرکمپنی مارجن 2.81 سے بڑھ کر 3.26 اور ڈیلرز مارجن 3.12 سے بڑھ کر3.62 روپے ہو جائے گا۔

پنجاب اسمبلی میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ واپس لینےکےمطالبے کی قراردادجمع کروائی گئی۔ قراردادمسلم لیگ(ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی۔ درخواست کا متن ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کرتا ہےاوریہ ایوان 1 ماہ میں 3 مرتبہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی مذمت کرتا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہورہائیکورٹ میں چیلنج بھی کردیا گیا ہے۔درخواست جوڈیشل ایکٹیویزم پینل نےدائرکی ہے۔

LEAVE A REPLY