عربی زبان کی تعلیم: خلیجی ممالک میں پاکستانی ورکرز کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی

0


پاکستان سے سالانہ لاکھوں افراد بیرون ملک جاتے ہیں۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 85 لاکھ سے زائد پاکستانی اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان محنت کش پاکستانیوں میں سے نصف سے زائد تعداد خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں عربی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
پاکستان سے جانے والوں میں عربی جاننے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خلیجی ممالک کا ورک ویزہ حاصل کرنے کے لیے عربی زبان کا بولنا آنا شرط نہیں ہے۔
اب جب پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ نے اسلام آباد کے سکولوں میں پہلی جماعت سے بارھویں تک عربی پڑھانے کو لازمی قرار دیا ہے تو امید کی جا سکتی یے کہ مستقبل میں خلیجی ممالک جانے والے پاکستانی ورکرز کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔
مسلم لیگ ن کے سینیٹر جاوید عباسی کی جانب سے پیش کیے گئے بل کو حکومت کی جانب سے بھی حمایت حاصل ہوئی اور اس طرح یہ بل پاس ہوکر قومی اسمبلی کو چلا گیا ہے۔
چیئرمین پاکستان علما کونسل اور وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ طاہر محمود اشرفی نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ’عربی زبان سیکھنا پاکستانیوں کے لیے ہر لحاظ سے فائدہ مند ہے۔ اگر عربی سمجھتے یا بولتے ہوں گے تو خلیجی ممالک میں ان کو بہتر نوکریوں کے مواقع دستیاب ہوں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’سینیٹ کی جانب سے اس بل کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی بھی اس بل کو پاس کرے گی۔‘
پاکستانی ورکرز کو بیرون ملک بھجوانے میں اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کا بڑا ہاتھ ہے۔ اگر کسی ورکر کو بیرون ملک پہنچ کر کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو سب سے پہلا سوال بھی ان پروموٹرز پر ہی اٹھایا جاتا ہے۔
پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے صدر محمد عثمان نے بھی اپنی تنظیم کی جانب سے سکولوں میں عربی کی تعلیم لازمی قرار دینے کے بل کا خیرمقدم کیا ہے۔
اردو نیوز سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ’70 کی دہائی میں سکولوں میں عربی یا فارسی میں سے ایک زبان لازمی پڑھائی جاتی تھی۔ جس سے نہ صرف عربی زبان کی سمجھ آتی تھی بلکہ عرب معاشرے کے بارے میں معلومات میں بھی اضافہ ہوتا تھا۔ اس سے پاکستان سے جانے والے ورکرز خاصے مستفید ہوتے تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جاپان اور کوریا کی جانب سے ورکرز کے لیے ان کی زبان سیکھنے کی شرط کی وجہ سے وہاں پر ورکرز کو بھجوانے میں مشکلات ہوتی ہیں۔ خلیجی ممالک کی جانب سے یہ پابندی نہیں ہے لیکن مستقبل میں وہی ورکرز زیادہ کامیاب ہوں گے جن کو زبان پر زیادہ عبور ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ایک ماحول میں رہتے ہوئے ان پڑھ ورکرز بھی مقامی زبان سے کچھ نہ کچھ واقفیت حاصل کر لیتے ہیں لیکن اگر مستقبل کے پاکستانی ورکرز عربی زبان تعلیمی اداروں میں پڑھ کر جائیں گے تو وہ یقیناً ہمارے ہمسایہ ممالک کے ورکرز پر ترجیح پائیں گے۔‘

LEAVE A REPLY