حمزہ شہباز کا ضمانت کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

0


آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار حمزہ شہباز نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کر دی۔

درخواست ضمانت میں کہا گیا ہے کہ حمزہ شہباز 19 ماہ سے پابند سلاسل ہیں جبکہ گرفتاری کے 14 ماہ بعد ریفرنس دائر ہوا اور 16 ماہ بعد فرد جرم لگی۔ ٹرائل جلد مکمل ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں۔

درخواست میں موقف اختيار کيا گيا ہے کہ ریفرنس آنے کے بعد کئی نئے حقائق سامنے آئے ہیں جن کی بنیاد پر ضمانت ہو سکتی ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں حمزہ شہباز کے وکیل عطا تارڑ نے بتایا کہ اثاثوں والے ٹرائل میں 110 گواہ ہیں جن میں سے 5 پر جرح ہوئی۔ ہم جلد جلد بھی پراسیکیوشن کی مدد سے اس ٹرائل کو روز بھی چلائیں تو 10 سے 12 ماہ لگ سکتے ہیں۔

وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ کچھ ایسا مواد مل گیا ہے جس سے استغاثے کا سارا کیس کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ کسی کِک بیک، کرپشن یا اختیارات سے تجاوز کی شہادت نہیں ہے۔

حمزہ شہباز کے وکلاء نے پہلے درخواست ضمانت سپریم کورٹ میں دائر کی تھی جو بعد میں واپس لے لی اور اب رہائی کی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی ہے جس کی سماعت 2 رکنی بینچ کرے گا۔

LEAVE A REPLY