اڑن طشتری کا معاملہ محکمہ موسمیات کا بیان سامنے آ گیا

0


کراچی 35ہزار فٹ کی بلندی پر پی آئی اے کپتان کی جانب سے دیکھی جانے والی غیر واضح شے کے معاملے پر محکمہ موسمیات کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔ترجمان محکمہ موسمیات خالدملک کے مطابق تاحال اس معاملے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ واقعی اڑن طشتریتھی یا پھر کچھ اور لیکن محکمے کے پاس موسمیاتی صورت حال کو ناپنے کے لیے 2 مختلف بلون (غبارے)موجود ہیں، ایک قسم کا بلون 6 سے 7 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑان بھرنے کی استعداد رکھتا ہے جبکہ دوسرے قسم کا بلون ریڈیو سانڈے کہلاتا ہے جو کہ اونچی اڑان بھرنے

کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ 70 ہزار فٹ کی بلندی تک اڑان بھر سکتا ہے۔ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق محکمہ کی جانب سے حالیہ دنوں میں ریڈیو سانڈے کے ذریعے موسمیاتی جانچ کا عمل بند ہے۔واضح رہے کہ پی آئی اے کے پائلٹس نے گزشتہ روز اڑن طشتری کی نشاندہی کی۔ پائلٹس نے بتایاکہ ہم نے اتوار کے روز فو فائٹر کو ہوا میں مٹر گشت کرتے دیکھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے مطابق پی آئی اے طیارے کی 35 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کے دوران کیپٹن نے فضا میں طیارے کے مقابلے میں بے حد بلند اڑن طشتری دیکھی جو فضا میں ایک بے حد چمکدار ستارے کی صورت میں واضح نظر آئی۔مذکورہ اڑن طشتری اتنی چمکدار تھی کہاسے دن کی روشنی میں بھی آسانی سے دیکھا جاسکتا تھا۔ کیپٹن کے مطابق مذکورہ ناقابلِ شناخت اڑن طشتری کے چاروں طرف ایک دھاتی خول تھا۔اس ضمن میں قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے بتایا کہ 23 جنوری کو لاہور سے کراچی جانے والی پروازکے پائلٹ نے آسمان پر کوئی مشکوک چیز دیکھی، کئی ہزار فٹ کی بلندی پر سفید چمک دار اور عجیب و غریب چیز کپتان کو غیر معمولی لگی۔ پہلے تو وہ سمجھے کہ یہ کوئی غبارہ ہے لیکن غور سے دیکھنے پر پتہ چلا کہ کوئی غبارہ نہیں تھا۔کپتان نے اس شے کی ویڈیو بنالی تاہمحتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اڑن طشتری ہی تھی؟۔ کپتان نے پی آئی اے حکام کو ویڈیو جمع کروا دی ہے جو اس کی مزید تفصیل جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔پرواز پی کے 304 کے پائلٹ محو پرواز تھے جب اڑن طشتری جیسی چیزملتان اور ساہیوال کے درمیان انہیں نظر آئی۔ پائلٹ نے جس وقت ہوا میں اڑتی یہ چیز دیکھی جہاز 35 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا۔

LEAVE A REPLY