آرمی چیف اور اداروں کا وزیراعظم کو مشورہ! عمران خان نے ماننے سے صاف انکار کر دیا، تہلکہ خیز دعویٰ

0


سکھر پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ آرمی چیف اور اداروں نے بھی حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کا مشورہ دیا لیکن عمران خان نے اپوزیشن سے بات تک کرنا گوارہ نہ کیا،حکومت کے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے 26 ویں آئینی ترامیم کے بل میں سینٹ انتخابات اوپن بیلٹنگ کے ذریعے کرانے کی شق تک شامل نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سکھرمیں احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سید خورشید احمدشاہ کا مزیدکہنا تھا کہ چیئرمین سینٹ کے انتخابات میں خود حکومت نے ہارس ٹریڈنگ کی عمران خان کو ڈر ہے کہ کہیں اس کے ووٹ اپوزیشن کو نہ چلے جائیں اس لیے انہوں نے یہ بل پیش کیا ہے اگر وہ اتنے مخلص ہیں تو یہ بل ایوان کا مشترکہ اجلاس بلاکر پیش کریں تو ان کو بدترین شکست ہوگی کیونکہ مشترکہ ایوان میں اس کے دو سو اور پی ڈی ایم کے 213 ووٹ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مشروط استعفے پیش کرنے کی پیشکش کرنے سے قبل اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کا بھی نام لیلیتے اور اپنے اس دوست کا بھی نام پیش کرتے جو ان کی پارٹی کیلیے فارن فنڈنگ لاتارہاہے تو اچھا ہوتا ہمارے کیسز عدالتوں میں چل رہے ہیں ان پر عدالتیں ہی فیصلہ کریں گی ہمیں اب اپنی فکر نہیں رہی ہے ہمیں اب اس ملک کے عوام کی فکر۔ہے جو معیشت کی وحشت میں پس رہے ہیں غریب آدمی کے لیے زندگی اجیرن ہوگئی ہے اور مزدور مزدوری کیلیے پریشان ہے۔

انہوں نےکہا کہ لوگ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کا مذاق اڑا رہے ہیں یہ مذاق ان کا نہیں پاکستان کا اڑ رہاہے ملک تباہی کے راستے پر گامزن ہے عمران خان کی باڈی لینگویج ضیاء الحق ،ایوب خان اور مشرف جو مکے لہراتا تھا سے مختلف نہیں ہے ہم دشمن نہیں ہیں ہم چاہتے ہیں ملک میں سیاست ،جمہوریت اور پارلیمنٹ ہو حکومت کے وزراء تو جھوٹ بولنے کے بادشاہ ہیں کشمیر ہماری خارجہ پالیسی کا محور اور ہماری جغرافیائی حدود کا حصہ ہے اور یہ مسئلہ آج کا نہیں 80 اور 85 سال پرانہ ہے مگر اس پر بھی ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے.

انکا کہنا تھا کہ حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی حکومت نے اپنے آئین میں ترمیم کی ہونا تو چاہیے تھا کہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرح اپنے وزراء کے ساتھ مسلم ممالک کے ہاس جاتے او آئی سی کا اجلاس بلواتے مگر اس حکومت نے تو اس مسئلے کو ایک تقریر تک محدود کردیاہے جس طریقے سے بھارت نے کشمیر کو ہڑپنے کی کوشش کی یہ اس حکومت کی بڑی ناکامی ہے ہر ہفتے کشمیرکے حوالے سے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنانے کا اعلان اور وعدہ کیا تھا مگر یہ اس وعدے پر بھی ایک دن سے زیادہ عمل نہ کرسکے۔

LEAVE A REPLY