امن کی جانب اہم قدم ، پاکستان اور بھارت سیز فائر پر متفق

0


اسلام آباد : پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل اوسی اوردیگر سیکٹرز پر آج سے سیز فائر کی خلاف ورزی نہ کرنے پر اتفاق ہوگیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ رابطے کے نتیجے میں 2003 کے سیزفائر کی انڈر اسٹیڈنگ پر من وعن عمل ہوگا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوزمیں ہاٹ لائن کے موجودہ میکنزم کے حوالے سے رابطہ ہوا، جس میں ایل اوسی اور دیگر سیکٹر ز کی صورتحال کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایم اوزکےدرمیان ہاٹ لائن رابطے کے موجودہ طریقہ کار پر مذاکرات ہوئے ، مذاکرات میں دیرپا اور باہمی مفاد امن کی خاطر دونوں اطراف کا کور ایشوز، تحفظات حل کرنے کیلئے اتفاق ہوا اور ایل اوسی ودیگرسیکٹرز پرفائر بندی کے حوالے سے معاہدوں پرعمل پیرا ہونے کا اعادہ کیا۔

ترجمان کے مطابق مذاکرات میں 25،24 فروری کی درمیانی رات سے باہمی مفاہمت پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا بھی اعادہ کیا گیا اور بارڈر فلیگ میٹنگز نظام کے ذریعے کسی بھی غیر متوقع صورتحال حل کرنے پر اتفاق ہوا۔

اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان اور بھارت کےدرمیان یہ رابطہ 1987 سے جاری ہے، رابطے کے نتیجے میں دوہزار تین کے سیزفائر کی انڈر اسٹیڈنگ پر من وعن عمل ہوگا۔

میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ ایل اوسی پر سیزفائر کیلئے 2003 میں ایک اور انڈراسٹیڈنگ ہوئی تھی تاہم 2014سے ایل اوسی سیزفائرخلاف ورزیوں میں تیزی آگئی تھی ، پھر 2003کےبعد سےاب تک 13500سےزائد سیزفائرخلاف ورزیاں ہوئیں، اس دوران 310شہری جاں بحق اور 1600کےقریب زخمی ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 2014سے2021 کے درمیان 97فیصد سیزفائرخلاف ورزیاں ہوئیں، 2019میں سب سے زیادہ سیزفائر خلاف ورزیاں ہوئیں اور سیزفائرخلاف ورزیوں سے2018میں سب سےزیادہ جانی نقصان ہواتھا۔

LEAVE A REPLY