امریکی شہری نے 41 انچ لمبے سینگ والا استور مارخور شکار کرلیا شوق کے عوض کتنی بھاری رقم ادا کی ؟جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

0


گلگت امریکی شہری نے موجودہ ہنٹنگ (شکار) ٹرافی سیزن میں 61 ہزار 500 ڈالر (تقریبا 98 لاکھ 80 ہزار پاکستانی روپے) لائسنس فیس کی ادائیگی کے بعد سب سے بلند قیمت والے استور مارخور کا شکار کیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے محکمہ جنگلی حیات نےبتایا کہ ایڈورڈ جوزف ہڈسن نے استور کے محفوظ علاقے داشکنـمشکنـتربولنگ (ڈی ایم ٹی) میں مارخور شکار کیا۔رپورٹ کے مطابق شکار کیے گئے جانور کے سینگ کی لمبائی 41 انچ ہے۔سال 21ـ2020 کے ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے لیے گلگت بلتستان کے محکمہ جنگی حیات، ماحولیات اور جنگلات نے استور مارخور کے صرف 4،

بلیو شیپ کے 18 اور ہمالیہ آئی بیکس کے 18 شکاری اجازت ناموں کی نیلامی کی تھی۔خیال رہے کہ ٹرافی ہنٹنگ سیزن نومبر میں شروع ہوتا ہے اور اپریل میں اختتام پذیر ہوجاتا ہے، غیر ملکی، قومی اور مقامی شکاری لائسنس حاصل کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے محفوظ علاقوں میں ٹرافیز شکار کرتے ہیں۔امریکی شکاری نے سب سے زیادہ ریٹنگ والے مارخور کے شکار کا لائسنس حاصل کرنے کے لیے 61 ہزار 500 ڈالر ادا کیے۔گزشتہ ماہ ایک اور امریکی شہری جوزف بریڈ فوڈ نے چترال کے محفوظ قرار دیے گئے علاقے توشی شاشا میں تیر کمان سے 40 انچ کے سینگوں والا کشمیری مارخورکا شکار کر کے تیار کمان سے پہلی ٹرافی ہنٹنگ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔جوزف بریڈ فورڈ نے لائسنس کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے ایک کروڑ 31 لاکھ 20 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ذرائع کے مطابق اجازت نامے سے حاصل ہونے والی رقم کا 80 فیصد مقامی افراد کو ملتا ہے جسےان کی اجتماعی ترقی اور گاؤں کی کنزرویشن کمیٹیوں کے ذریعے بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کا بندو بست کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ٹرافی ہنٹنگ کا پروگرام 80 کی دہائی میں شروع کیا گیا تھا جو جنگی حیات کی نایاب نسل کے بین الاقوامی کنوینشن کے تحت ہوتا ہے اور گلگت بلتستان کے صرف مخصوص علاقوں میں ہی اس کی اجازت ہے۔کوئی بھی شخص اگر غیر قانونی شکار میں ملوث پایا جاتا ہے تو اسے پکڑ کر سزا دی جاتی ہے۔

LEAVE A REPLY