افغانستان سے فوج کا انخلا، طالبان اور جوبائیڈن حکومت میں پہلا رابطہ

0


افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے اںخلا پر افغان حکومت اور جو بائیڈن انتظامیہ کیساتھ مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔

افغان عمل کیلئے نامزد نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر سمیت دیگر رہنماؤں سے ملاقات اچھی رہی ہے۔ زلمے خلیل زاد کے مطابق فریقین میں ملاقات جمعہ 5 مارچ کو ہوئی۔

دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ وہ ملکی آئین سے کسی صورت انحراف نہیں کریں گے، جب کہ افغانستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ عالمی برادری کی نگرانی میں ہونے والے آزاد اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے ہی ہوگا۔

اشرف غنی نے یہ بات افغان قانون سازی اسمبلی کی تیسری مدت کے آغاز پر 6 مارچ کو کہی۔ افغان صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ انتخابات کی تاریخ سے متعلق بات چیت کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ ایک سمجھوتے پر پہنچا جا سکے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ طالبان اشرف غنی کی کابل حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ طالبان شروع سے یہ مؤقف رہا ہے کہ کابل حکومت غیر قانونی اور امریکا کے افغانستان پر قبضے کی علامت ہے۔ لہذٰا بین الافغان مذاکرات کے بعد ملک میں اسلامی حکومت کا عمل میں لانا ناگزیر ہے۔

زلمے خلیل زاد افغانستان کے 3 روزہ دورے کے بعد دوحا میں موجود ہیں۔ افغانستان میں اُنہوں نے کابل حکومت، سول سوسائٹی کے اراکین اور دیگر سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ امریکی وزارت خارجہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اور طالبان کے درمیان پہلی بار زلمے خلیل زاد کے ذریعے رابطہ ہوا ہے۔


واضح رہے کہ امریکا اور طالبان میں گزشتہ سال2020 میں 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں مذاکرات کے بعد امن معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

معاہدے کے تحت امریکا نے افغان جیلوں میں قید طالبان جنگجوؤں کی رہائی سمیت مئی 2021 تک افغانستان سے امریکی اور اتحادی فوج کے مکمل انخلا پر اتفاق کیا تھا۔

LEAVE A REPLY