اسٹیل ملز کیس: اسد عمر سپریم کورٹ میں طلب

0


عدالت عظمیٰ نے اسٹیل ملز کی حالت زار کا ذمہ دار کمپنی کی انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر کو فوری طلب کرلیا۔

جمعرات 3 فروری کو عدالت عظمیٰ میں اسٹیل ملز ملازمین کی پروموشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر نجکاری محمد میاں سومرو، وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر اور سیکرٹریز کو بھی فوری طلب کر لیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ اگر انتظامیہ نے کارکردگی نہ دکھائی تو اسٹیل ملز کو بند کرنے کا حکم دیں گے۔

چیف جسٹس نے اسٹیل ملز انتظامیہ کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مل بند پڑی ہے تو انتظامیہ کیوں رکھی ہوئی ہے؟ کیا حکومت نے اسٹیل ملز انتظامیہ کیخلاف کارروائی کی؟ انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر کوئی غلط کام نہیں ہوسکتا۔

جسٹس گلزار احمد نے مزید ریمارکس دیے کہ ملازمین سے پہلے تمام افسران کو اسٹیل ملز سے نکالیں کیونکہ اسٹیل ملز انتظامیہ اور افسران قومی خزانے پر بوجھ ہیں اور بند اسٹیل ملز کو کسی ایم ڈی یا چیف ایگزیکٹو کی ضرورت نہیں۔

چیف جسٹس نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ عملی طور پر اسٹیل ملز کا کوئی وجود نہیں لہٰذا سب کو فارغ کرنے اور آج اسٹیل ملز کو تالا لگانے کا حکم دیں گے۔ اسٹیل ملز کے 437 میں سے 390 افسران اور بقیہ 3700 ملازمین کو آج فارغ کرنے کا حکم دیں گے۔

چیف جسٹس نے بیوروکریسی پر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سمجھ نہیں آتا حکومت نے سیکرٹریز کو رکھا ہی کیوں ہوا ہے؟ تمام سیکرٹریز صرف لیٹر بازی ہی کر رہے جو کلرکوں کا کام ہے۔ ملک میں کوئی وفاقی سیکرٹری کام نہیں کر رہا۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کہ پہلے بھی تو سیکرٹریز کام کرتے تھے اب پتا نہیں کیا ہوگیا۔ سیکرٹریز کو ڈر ہے کہیں نیب انہیں نہ پکڑ لے اور انہی سیکرٹریز کے کام نہ کرنے کیوجہ سے ہی ملک کا ستیاناس ہوا۔

واضح رہے کہ نومبر 2020 میں پاکستان اسٹیل ملزم نے 4 ہزار 544 ملازمین کو فارغ کر دیا تھا۔

LEAVE A REPLY