غیر قانونی مواد نہ ہٹانے پر پی ٹی اے نے معروف ویب سائٹ بلاک کر دی

0


اسلام آباد پی ٹی اے نے ویب سائٹ www.trueislam.com کی پاکستان میں رسائی کو بلاک کردیاہے،روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے ویب سائٹ کے ایڈمنسٹریٹر سے ویب سائٹ پر موجود غیر قانونی مواد کو ہٹانے کے لئے رابطہکیا جو پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 295-A، 298-B اور 298-C اور آرٹیکل 260 (3)اور آرٹیکل 31 کی خلاف ورزی پر مبنی تھا، پلیٹ فارم کو اتھارٹی کے سامنے اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے سماعت (ورچوئل /فزیکل)کا موقع بھی فراہم کیا گیا جس سے استفادہ نہیں کیا گیا،پی ٹی اے نے

مجوزہ پابندی کی مناسبت سے بین الاقوامی میڈیا میں آنے والی بعض خبروں کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان میں قابل اطلاق ملکی قوانین کی قانونی دفعات کے عین مطابق ہے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پی ٹی اے نے گوگل اور وکی پیڈیا کو پلیٹ فارمز کے ذریعے گستاخانہ مواد پھیلانے کے معاملے پر نوٹس جاری کئے تھے ۔پی ٹی اے کایہ اقدام ا حمدیہ کمیونٹی کی جانب سے گوگل پلے سٹورپر قرآن پاک کا غیر مستند ورژن اپ لوڈ کرنے اور موجودہ خلیفہ اسلام سے متعلق گمراہ کن سرچ رزلٹس کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کا نتیجہ ہے،معاملے کی انتہائی سنجیدہ نوعیت کےپیش نظر، پی ٹی اے نے گوگل سے رابطہ کرکے اس قسم کے غیر قانونی مواد کوفوری طور پر ہٹانے کی ہدایات کی۔متعلقہ پلیٹ فارم کو جاری کردہ یہ نوٹس غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹانے اور بلاک کرنے(طریقہ کار، نگرانی اور حفاظتی اقدامات) قواعد 2020 کے تحت جاری کیےگئے ہیں تاکہ ریگولیٹر کی جانب سے کسی بھی قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے گستاخانہ مواد کوفوراًہٹادیا جائے۔پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکوں کی موجودگی اور وکی پیڈیا پر شائع کردہ مضامین کے ذریعے گمراہ کن، غلط، فریب اور دھوکہ دہی پر مبنی معلومات سے متعلق شکایاتبھی موصول ہوئی ہیں جن میں مرزا مسرور احمد کو ایک مسلمان کی حیثیت سے پیش کیا گیا۔ اس معاملے پر وسیع گفت و شنید کے بعد وکی پیڈیا کو نوٹس جاری کردیا گیا تاکہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچتے ہوئے گستاخانہ مواد کوفوری طورپر ہٹا دیا جائے۔متعلقہ پلیٹ فارمز کی جانب سے عدم تعمیل کی صورت میں پی ٹی اے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ 2016 (پی ای سی اے)اور قواعد 2020 کے تحت مزید کارروائی کر سکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here