کیا دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں پیدا ہونے والا پاکستانی پھل چین کی مارکیٹ پہنچ سکے گا؟

0


گلگت: دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں پیدا ہونے والا رسیلا پاکستانی پھل چیری ذائقے میں اپنی مثال آپ ہے، تاہم گلگت بلتستان کے مقامی کاشت کار اس مٹھاس سے بھرپور پھل کو عالمی سطح پر متعارف کرانے سے ناواقف ہیں، اور اب وہ اسے چین کی مارکیٹ لے جانے کے خواہاں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان ذائقہ دار چیری بہ کثرت پیدا ہوتی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ اگر چیری کا یہ پھل اس علاقے سے آگے چین اور دنیا کی دوسری منڈیوں تک پہنچ پاتا ہے، تو چیری اس علاقے کے لوگوں کی زندگی میں خوش حالی لا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان فی الحال دنیا کے کئی ممالک سے چیری کی تیاری اور پروسیسنگ کے حوالے سے پیچھے ہے، تاہم، اگر چیری کے کاشت کاروں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مناسب رہنمائی، علم اور ٹیکنالوجی فراہم کی جائے توصورت حال بہتر ہو سکتی ہے، پاکستان کی ایکسپورٹس میں یہ اچھا اضافہ ہوگا۔

خیال رہے کہ پاکستانی چیری متحدہ عرب امارات کی چند مارکیٹوں کے علاوہ اب تک کسی بھی بین الاقوامی مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ مقامی کاشت کاروں کو بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کو رجسٹر کرانے کا طریقہ معلوم نہیں، علم کی کمی کی وجہ سے غیر ملکی تجارتی مراکز تک رسائی کے لیے بین الاقوامی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں بھی مشکلات ہیں۔

چیری کے ایک مقامی کاشت کار 47 سالہ ذوالفقارعلی غازی نے شنہوا نیوز کو بتایا کہ یہاں چیری کی 19 اقسام ہیں، لیکن ان میں سے صرف چند ایک ہی بیرون ملک برآمد کے لیے موزوں ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے مطابق پاکستان میں ڈھائی ہزار ہیکڑ اراضی پر چیری کی کاشت کی جاتی ہے، جب کہ گلگت بلتستان اور بلوچستان چیری کی پیداوار کے دو بڑے علاقے ہیں، 2016 میں ملک میں چیری کی مجموعی پیداوار 6 ہزار ٹن سے زیادہ تھی۔

LEAVE A REPLY