کرپشن اور شفافیت، تاثر اور حقیقت

0


‘ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا‘ اور کہیں صادق آئے نہ آئے عمران خان اور پی ٹی آئی اس کی چلتی پھرتی مثال ہیں۔
معاملہ کوئی بھی ہو، موضوع کہیں کا بھی ہو معیشت سے لے کر گورننس تک شعبہ کوئی بھی ہو، خان صاحب کے بھر پور اعتماد سے دیے گئے ارشادات موجود ہیں۔ اور یہ فرمودات نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے ریڈی میڈ حل بھی مہیا کرتے ہیں۔
اب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ اور رینکنگ کو لے لیجیے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں جب رینکنگ گِری تو خان صاحب کے نزدیک یہ حکومتی کرپشن کا منہ بولتا ثبوت تھا پھر جب نواز شریف دور میں رینکنگ کچھ بہتر ہوئی تو یہ نواز شریف کی طرف سے پیسے لگانے کا نتیجہ تھا۔
اب پی ٹی آئی کا تیسرا سال ہے، پاکستان کی رینکنگ پھر زیادہ نہیں مگر بتدریج نیچے گئی ہے۔ ابھی تک خان صاحب کا براہ راست موقف سامنے نہیں آیا مگر ان کے ترجمان اس کو غیر اہم ہی قرار دے رہے ہیں۔ البتہ خان صاحب اس کو عالمی سازش سے لے کر لندن میں موجود نواز شریف کی چال قرار دے سکتے ہیں۔
سیاست سے ہٹ کر اگر رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیں تو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کرپشن کا تاثراتی یا perception جائزہ پیش کرتی ہے جو دراصل آٹھ مختلف انڈکسز یا جائزوں میں سے اخذ کیا جاتا ہے۔
یہ انڈیکس مختلف ادارے سروے کے بعد مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان کی رینکنگ چھ پیمانوں میں برقرار رہی مگر دو جگہ یعنی ’جمہوری روایات‘ اور ‘رول آف لا‘ میں رینکنگ میں کمی دیکھی گئی۔ اس کمی کی وجہ مالی بدعنوانی سے زیادہ نظام انصاف کی کمزوری اور سیاسی آزادیوں پر قدغن شامل ہیں۔
سیاسی آزادی کے بارے میں تو شاید حکومت رپورٹ کو چیلنج کرنا چاہے مگر نظام انصاف اور گورننس تو اس حکومت کے لیے ایک واضح ناکامی ہے۔

سیاسی، عدالتی اور بیوروکریسی کے نظام میں خامیوں کا ذکر ہو تو پھر خان صاحب کے وعدے اور دعوے سامنے آ جاتے ہیں۔ شیر اور بکری کے ایک گھاٹ پر پانی پینے اور دودھ شہد کی نہروں کی مثالیں بھی خان صاحب کے دکھائے گئے خوابوں کے سامنے ماند پڑ جائیں گی۔
اب جب بھی گورننس، شفافیت اور کرپشن کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ دعوے پیمانہ بنتے ہیں اور جب حقیقت یہ سامنے آئے کہ صورتحال پہلے سے بھی خراب ہے تو پھر غیر جانبدار حلقوں سے تنقید بھی ہو گی اور مایوسی کا اظہار بھی ہو گا۔
مگر تنقید کو یہ حکومت ایک اعلان جنگ ہی سمجھتی ہے۔ فوراً ہی تنقید کرنے والوں پر سنگ باری شروع ہو جاتی ہے چاہے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ہو یا کوئی مقامی سروے۔ حتیٰ کہ عوامی رائے یا میڈیائی تجزیوں کا جواب بھی نفی، ہٹ دھرمی اور جوابی تنقید کی صورت میں نکلتا ہے۔

گورننس کے نظام میں بہتری کے اثرات براہ راست عوام کے لیے سہولت اور معیار زندگی میں بہتری کی صورت میں نکلتے ہیں۔ کیا حکومتی کابینہ اراکین اور ترجمان جن کا عوام سے رابطہ رہتا ہے واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ عوام کے حالات میں تبدیلی آ گئی ہے؟ کچھ سو یا کچھ ہزار افراد کے لیے نہیں بلکہ نظام انصاف اور حکومت کے متاثرین وہ لاکھوں اور کروڑوں افراد جن کا واسطہ روز تھانہ، پٹواری، سرکاری ہسپتال اور سکولوں سے پڑتا ہے۔
کیا مظلوم کو انصاف اور مجبور کو مدد ملنا شروع ہو گئی ہے؟ غریب کو مزید غربت میں دھکیلنے کا فوری سبب ضرروی اشیا کی مہنگائی ہے۔
کیا آٹا، چینی، دودھ، بجلی اور ایندھن اب سستے داموں دستیاب ہیں؟ اگر ان سب کا جواب نفی میں ہے تو پھر کوئی بھی میڈیا سٹریجی حکومتی کارکردگی کے تاثر کو بہتر نہیں کر سکتی۔

LEAVE A REPLY