پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں سنگین خامیاں سینئر صحافی مظہر عباس نے نشاندہی کردی

0


اسلام آباد پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں سنگین خامیوں کی وجہ سے ایک صورتحال پیدا ہوگئی جہاں اتحاد ایک منقسم گھر لگا اور عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے بھی بہت کمزور لگا جب تک پیپلز پارٹی کے چیئرمینبلاول بھٹو زرداری کی تازہ ترین تجویز کو کچھ بیک اپ سپورٹ حاصل نہ ہوجائے جو وجود نہیں رکھتی۔ وہ کسی ایسے احتجاج کے لئے بھی تیار نہیں ہیں جو صرف غیر آئینی ذرائع کا باعث بن سکتا ہو۔روزنامہ جنگ میں سینئر صحافی مظہر عباس لکھتے ہیں کہ چاہے کسی

کو پسند ہو یا نہ ہو تاریخ دو وجوہات کی بنا پر وزیر اعظم کے ساتھ ہے۔ایک یہ کہ کسی بھی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کبھی کامیاب نہیں ہوا۔ ماضی میں یہ 1989 میں بھی ناکام رہا جب اس وقت کے حزب اختلاف کے اتحاد کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے باوجود آئی جے آئی اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 2020 کے حالیہ اقدام میں سینیٹ میں حزب اختلاف کی اکثریت کے باوجود چیئرمین سینیٹ کے خلاف شکست کھا گئی۔چنانچہ مارچ میں اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری یا پیپلز پارٹی کی تبدیل کردہ حکمت عملی اور دھرنا کی غیر اعلانیہ مخالفت واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پارٹی دفاعی موڈ پر ہے اور PDM مارچ کے منصوبے کوصرف بیکار سمجھتی ہے۔ شاید پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ PDM عوامی جلسوں اور ریلیوںکے انعقاد کے منصوبے پر عمل پیرا رہے جب تک اسے حکومت کو گھر بھیجنے کا یقین نہ ہوجائے تب تک اپنی چال نہیں چلنی چاہئے۔ PDM کی حکمت عملی میں بنیادی خامی اس کا اپنا بیانیہ ہے۔اگر سابق وزیر اعظم نواز شریف ، جو پچھلے ایک سال سے لندن میں ہیں، نے براہ راست اسٹیبلشمنٹ پر حملہ کیا تو پیپلز پارٹی نے بہت دفاع کیا اور جے یوآئی (ف) کے مابین ، مولانا فضل الرحمان اور چند قوم پرست جماعتوں کے پاس ایک کے بعد ایک عوامی جلسہ کرنے پر بھروسہکرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔ اس ساری الجھنوں نے پی ڈی ایم کی تحریک کو ایک نان اسٹارٹر بنا دیا اور اب اس کی جزو والی جماعتوں کو پہلے کام کرنا ہوگا کہ فریقین میں اتفاق رائے پیدا کریں اور دوسرا ایک نیا عملی منصوبہ بنائیں۔ نواز شریف کی تند و تیز تقاریر نے کسی بھیکامیابی کے امکانات کے لئے نہ صرف تمام دروازے بند کردیئے بلکہ اس سے وزیر اعظم اسٹیبلشمنٹ کے قریب بھی آگئے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ حکومت یا سینیٹ انتخابات میں سے کسی ایک کو بھی ہارنا نہیں چاہتی۔ اب عدم اعتماد کی تجویز کے ساتھ یہ اس سے زیادہواضح ہے کہ پیپلز پارٹی بخوبی جانتے ہوئے حکمران پی ٹی آئی کے ساتھ دوستانہ مخالفت چاہتی ہے کہ نہ تو عدم اعتماد کا ووٹ اور نہ ہی احتجاج کے ذریعے وہ حکومت کو بے دخل کرسکتے ہیں۔ بظاہر پی ڈی ایم اب ایک نرم اپوزیشن اتحاد کی طرح لگتی ہے اور اس کا مستقبلتاریک نظر آتا ہے۔ لہذا تمام عملی مقاصد کے لئے گزشتہ تین مہینوں میں PDM نے اپنے تمام عملی منصوبوں سے دستبرداری اختیار کرلی ہے جس نے 31 دسمبر تک وزیر اعظم کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے کی حکمت عملیکے بارے میں دعوی کیا تھا۔ اپوزیشن بھی اسلام آباد مارچ کرنے کے اپنے منصوبے سے دستبردار ہوگئی اور اب مارچ تک اس کو موخر کردیا۔ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے اور سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے پر بھی پی ڈی ایم الجھن میں نظر آئی۔ ایک طرح سےانہوں نے موجودہ جمہوری نظام کو قبول کرلیا جسے وہ سلیکٹوکہتے ہیں۔ ہڑتال یا عدالتی گرفتاری جیسے ملک گیر احتجاج کی حکمت عملی اپنانے پر بھی وہ منقسم نظر آئی۔ پی ڈی ایم ، جس نے وزیر اعظم کے استعفیٰ دینے کے لئے 30 جنوری کی ڈیڈ لائن طے کی ہے اب اسے اپنی بقا کےلئے ہی اندرونی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور جب مستقبل کی منصوبہ بندی کے بغیر آخری تاریخ گزر جائے گی تو اسے ایک اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سینیٹ کے بعد کے انتخابات کا منظر نامہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کیونکہ حکومت دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنےکے بعد قانون سازی کے ذریعے نظام میں سخت تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اپوزیشن کی آزمائش ہو گی کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں کیسے چلے گی جو اس سال مئی تک متوقع ہیں۔ پی ڈی ایم پچھلے تین مہینوں میں اپنے کسی بھی ایکشن پلان کو نافذ کرنے کے قابل نہیں رہی ہے جس نے اسکے اپنے ڈھانچے اور منصب اور فائل کو الجھا کر رکھا ہے اور اس کے عوامی جلسوں میں عام لوگوں کی شرکت کو بری طرح متاثر کیاہے۔اب یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اپنے لانگ مارچ منصوبے پر نظرثانی کرنا پڑسکتی ہے جس کے پاس وزیر اعظم کے استعفیٰ دینے کے لئے اپنی ڈیڈ لائنمیں توسیع کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بچا۔مرکزی دھارے کی حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کی موجودگی کے باوجود پی ڈی ایم کبھی بھی مضبوط اتحاد کے طور پر سامنے نہیں آئی۔ اس میں سنجیدگی اور عزم کا فقدان ہے جو اس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہیکہ ماضی کے اتحادوںکے برخلاف وہ قومی اور بین الاقوامی امور پر جوابی بیانیہ، مضبوط قراردادوں سے بمشکل ہی باہر آئے جیسا کہ ہم نے تحریک برائے بحالی جمہوریت ایم آر ڈی جیسے اتحاد میں دیکھا تھا۔ پی ڈی ایم میں اس کی تشکیل کے روز سے ہی اختلافات موجود تھے جو اس مسئلے سے شروعہو ئے تھے کہ اتحاد کی قیادت کس کو کرنی چاہئے۔اگرچہ مسلم لیگ (ن) نے جے یو آئی (ف) کے مولانا فضل الرحمان کے نام کی تجویز پیش کی تھی، پی پی پی اور اے این پی نے مشورہ دیا تھا کہ ہر ماہ یا تین ماہ میں پی ڈی ایم کے سربراہ کو گردش پر تبدیل کیا جائے۔ اگر سابق وزیر اعظمنواز شریف کے طاقتور اسٹیبلشمنٹ پر براہ راست قبل از وقت حملے نے پاکستان پیپلز پارٹی کو حیران کردیا تو پی پی پی کی دفاعی اور نرم اپوزیشن نے یہ تاثر دیا کہ وہ تحریک یا مزاحمت کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ اتحاد اب برقرار رہنا ہے تو نئی حکمت عملی اپنانے کے سواکوئی چارہ نہیں بچا ہے۔ یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو اسٹیبلشمنٹ میں مفاہمت کے پیغام کے سوا اس کے بدلے میں کیا ممکنہ فائدہ ہوگا؟ بخوبی جانتے ہوئے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دو مضبوط اتحادی، مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم (پاکستان)جیسی جماعتوں کی حمایت حاصل کیے بغیر عدم اعتماد کا ووٹ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی تجویز واضح طور پر اشارہ کرتی ہے ،پیپلز پارٹی PDM کے ساتھ زیادہ دور جانے کے موڈ میں نہیں ہے اور اس نے موجودہ نظام اور وزیر اعظم کو اس وقت تک قبول کرلیا ہے جب تکحکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں پالیسی امور پر کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوتا۔ اس وقت دراڑوں کا کوئی نشان نہیں ہے اور ان کی رائے کا جو بھی اختلاف تھا اب نا اہل کئے گئے وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے لی گئی پوزیشن کیلئے شکریہ کا کام کیا۔

LEAVE A REPLY