پینشنرز کیلئے پریشانی یا آسانی، بائیو میٹرک تصدیق موٗخر کرنے کا فیصلہ

0


کراچی : حکومت نے پینشنرز کی آسانی کےلیے بائیو میٹرک تصدیق کا فی الحال موٗخر کردیا، حکام کا کہنا ہے کہ طریقہ کار پیچیدہ نہیں آسان بنایا جائے گا اور پہلے عوام کو آگاہی فراہم کی جائے گی۔

پاکستانی شہریوں کو بھی دیگر ملکوں کی طرح ریٹارمنٹ کے بعد حکومت کی جانب سے پینشن دی جاتی ہے جس کا ہجم سالانہ 470 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پینشن کی رقم ملازمین کی سالانہ تنخواہوں سے بھی زیادہ ہے۔

حکام کے مطابق محکمہ ڈاک کے بجٹ کا 34 فیصد حصّہ پینشن کےلیے مختص کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان ریلوے کو سالانہ 40 ارب روپے صرف پینشن کےلیے درکار ہوتے ہیں۔

تین نسلوں تک پینشن کا استحقاق انگریز کے دور کا قانون ہے جسے اب تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور دیگر ملکوں کی طرح پینشن فنڈ کا قیام ایک ضروری اقدام بن گیا ہے تاکہ ملکی خزانے پر پڑنے والے پینشن کے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے پینشن کے بجٹ کو کم کرنے اور گوسٹ پینشنرز سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلیے لائیو سرٹیفکیٹ کو ختم کرکے بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا تھا جس نے پینشنرز کی پریشانی مزید بڑھا دی تھی کیونکہ پہلے ہی اپنے زندہ ہونے کےلیے لائیو سرٹیفکیٹ کی صورت میں ثبوت پیش کرنا پڑتا ہے۔

ایسی حالات اور کرونا بحران کی صورتحال میں بائیو میٹرک تصدیق انتہائی مشکل عمل ہے اور ساتھ ہی فنگر پرنٹس لینے مشین پر بہت سے بزرگ شہریوں کے پرنٹس نہیں آتے جس کی وجہ ان بڑھتی عمر کے ساتھ ان کی انگلیوں کے نشانات کا مٹنا ہے۔

پینشنز کی بائیو میٹرک تصدیق کا عمل رواں ماہ سے شروع ہونا تھا جو موٗخر کردیا گیا ہے، فیصلہ فی الحال پینشنرز کی آسانی کےلیے موخر کیا گیا ہے تاکہ جو پراسیس ہے اسے مکمل ہونے کےلیے زیادہ سے زیادہ وقت مل سکے اور عمل درآمد سے قبل عوام میں مزید آگاہی پھیلائی جاسکے۔

صاحب رائے افراد کا کہنا ہے کہ حکومت کا چاہیے کہ پینشنرز سے سالانہ یا ششماہی بنیادوں پر لائیو سرٹیفکیٹ وصول کرکے ان کے اکاوٗنٹس میں ماہانہ بنیادوں پر پینشن کی رقم منتقل کرے جس بزرگ شہریوں کو آسانی ہوگی۔

LEAVE A REPLY