پاکستانی کوہ پیما اسدعلی نےافریقہ کی بلند ترین چوٹی سرکرلی

0


یہ تصویر اسد علی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے لی گئی ہے

پاکستانی کوہ پیماہ نے افریقہ کی سب سے اونچی چوٹی کلی منجارو کو سر کرلیا۔

اس علی نے دیگر کوہ پیماؤں کے ہمراہ افریقہ کی 5 ہزار 895 میٹر بلند پہاڑ کو 14گھنٹوں میں سر کر کے نیار یکارڈ قائم کر دیا۔

یہ چوٹی سر کرنے کے بعد اسد علی میمن اتنے کم وقت میں چوٹی سر کرنے والے پہلے ایشیائی اور پاکستانی بن گئے۔

اسد علی کو تنزانیہ کے بلند مقام سر کرنے والے پہلے ایشیائی کوہ پیما کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ اس موقع پر تنزانیہ میں موجود پاکستانی سفیر محمد سلیم کی جانب سے انہیں مبارک باد بھی پیش کی گئی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عام طور پر کوہ پیماؤں کو یہ چوٹی سر کرنے میں 5 سے 7 روز لگتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسد علی میمن 11 فروری کو تنزانیہ پہنچے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہم میں 10 لاکھ روپے کے مساوی اخراجات میں سندھ حکومت نے 3 لاکھ روپے کی اعانت کی۔

اسد علی میمن سے متعلق اگر ہم آپ کو بتائیں تو ان کا تعلق پاکستانی صوبے سندھ کے علاقے لاڑکانہ سے ہے۔

اس سے قبل اپنے دیئے گئے ایک پیغام میں اسد علی میمن کا کہنا تھا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ 19 ہزار فٹ بلند چوٹی کو کم ترین وقت 6 گھنٹے، 24 منٹ میں سر کرنے کے سوئس کوہ پیما کارل ایگلوف کے ریکارڈ کو نہیں توڑ پائیں گے لیکن کم از کم 24 گھنٹوں سے کم وقت میں اس کو سر کرکے چوٹی پر پاکستان کا پرچم لہرانا ہدف ہے۔

اسد علی میمن ماؤنٹ ایلبرس کے بعد ماؤنٹ اکنگوا پر بھی پاکستان اور کشمیر کا پرچم لہرا چکے ہیں۔ اسد علی بلند ترین پہاڑ پر 50 میٹر لمبا قومی پرچم لہرانے والے دنیا کے پہلے کوہ پیما بھی بنے تھے۔ ماؤنٹ اکنگوا 23 ہزار فٹ بلند ہے۔

نوجوان کوہ پیما نے اس سے قبل جنوبی امریکا کی آکونکاگووا چوٹی سر کی تھی۔

اسد علی میمن نے 23 اگست 2019 کو روس کے جنوب میں جارجیا کی سرحد کے قریب ایشیا اور یورپ کو ملانے والے پہاڑی سلسلے میں برف سے ڈھکی یورپ کی سب سے اونچی 6 ہزار 642 میٹر بلند چوٹی ماونٹ البرس سر کر کے پاکستان کا جھنڈا لہرایا تھا۔

LEAVE A REPLY