ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ کیلئے میرے اسسٹنٹ کو رشوت کی آفر کی گئی ، اعظم سواتی کا انکشاف

0


لاہور : وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے انکشاف کیا کہ ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ کیلئے میرے اسسٹنٹ کو رشوت کی آفر کی گئی ،انشااللہ 15دن کے اندروہ کیفر کردار تک پہنچ جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ٹرین حادثے میں 63افرادجاں بحق ہوئے ،20زخمی ابھی زیرعلاج ہیں، تین زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ، ریسکیوآپریشن مکمل ہونے تک جائےحادثہ پر موجودرہا، جائے حادثہ پر ہرچھوٹی چیز کو دیکھا۔

وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ زخمیوں کوکھانے پینے اوردیگر سہولتیں فراہم کررہےہیں، ٹرین حادثےمیں تقریباً107لوگ زخمی ہوئے تھے ، میں اتوار یا پیر کو وزیراعظم سےملاقات کروں گا اور جومعذور ہوچکے ہیں ، ان کی احساس پروگرام کے تحت مدد کریں گے جبکہ جاں بحق ہونیوالےافرادکے لواحقین کو 15 لاکھ فی کس اور 50ہزارسے 3لاکھ زخمیوں کو دیئے جائیں گے۔

اعظم سواتی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری کوچز50سال پرانی ہیں، ہمیں ہرصورت میں ریلوے ٹریک کو اپ گریڈ کرنا ہوگا، کوچز،انجنز ،فریٹ ویگنز یہیں ہوں مگر ٹریک بہترکرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے مارچ میں ایک واقعہ ہوا جس پر سخت ایکشن لیا، ٹرین کے مارچ میں ہونیوالے حادثےپر22لوگوں کوچارج کیاہے، اس وقت کی ابتدائی رپورٹ کیلئے میرے اسسٹنٹ کورشوت کی آفر کی گئی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ قانون کےمطابق سزادینی ہےتوایک ایک اسٹیپ لینا پڑتا ہے ، تمام انکوائریاں مکمل ہونے کے بعدافسرپنشمنٹ کی اسٹیج پر ہے، انشا اللہ 15دن کے اندروہ کیفر کردار تک پہنچ جائیں گے، احتساب اوپرسےشروع ہوتا ہے نیچے سے نہیں۔

اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ اورنج ٹرین کاایک کلومیٹر60ملین ڈالرزمیں بنا، 27کلومیٹرکی1.6بلین ڈالرکی لاگت ہے، ملتان موٹروےکی لاگت 12سے15 ملین ڈالر ایک کلومیٹرہے، ملتان موٹروےپرتقریباً4بلین ڈالرلاگت آئی ے، ملتان موٹروےچھوٹےحصےکوسہولت دےرہاہے، ریلوے ٹریک 3صوبوں کوجوڑتااورسہولت دیتا ہے۔

ٹرین حادثے کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ 12بوگیاں ڈی ریل ہوئیں یہ ٹرین حادثےکی اصل وجہ ہے، 12بوگیاں ڈی ریل ہوکر دوسرے ٹریک پر آگئی تھیں، سرسید ایکسپریس کی آمد میں صرف ڈیڑھ دومنٹ کا فرق تھا، بوگیوں میں موجود مسافروں اور سرسید ایکسپریس کے ڈرائیور کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا تھا، ایمرجنسی بریک لگائی گئی اس کےنشانات وہاں موجودہیں۔

وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ 1999میں بھی3ٹرین حادثات بالکل اسی طرح ہوئےتھے، ٹرین حادثےمیں لاشوں کو دیکھا وہ اپنی زندگی میں بھول نہیں سکتا، ٹریک 1971 کا ہے، جسےاپ گریٹ کرناچاہئےتھامگر نہیں ہوا، ریلیف ٹرین ڈھائی گھنٹے تاخیر سے آئی اس کی ذمہ داری ہم پر ہے، ریلیف ٹرین کو اسٹارٹ کرنے اور رواں کرنے میں 45منٹ بھی لگتےہیں۔

اعظم سواتی نے کہا پہلی ابتدائی رپورٹ میں ہےکہ ٹرین لیٹ ہوئی ہے، موقع پرفوری ابتدائی رپورٹ سے پہلےجوائنٹ سروےہوتاہے، اس جوائنٹ سرٹیفکیٹ میں بھی فالٹ تھا، 63قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور ریلوےکی بدنامی ہوئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جوائنٹ سرٹیفکیٹ آفیسرزدیکھتےاور بناتےہیں، کوچ نمبر10کےاندروفرمسنگ تھےبولٹ ٹوٹےہوئےتھے، مسافروں کا کہنا ہے کراچی سے ملت ایکسپریس چلی توڈبےہل رہے تھے، جوکام نہیں کرےگااسےایسی پھکی دی جائےگی کہ یادکرےگا۔

LEAVE A REPLY