مسئلہ کشمیر: پاکستان کا اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ سے واضح مؤقف لینے کا اعلان

0


ملتان: وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان آئندہ برس اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے سامنے مسئلہ کشمیر رکھ کر اُن کا واضح مؤقف حاصل کرے گا، وزیراعظم عمران خان نے فلسطین کے معاملے پر واضح مؤقف اپنایا اور فلسطینیوں کی وکالت کی۔

ملتان میں تحریک انصاف کے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے فلسطین سے متعلق واضح مؤقف اپنایا، فلسطین پرمظالم کی انتہاکی گئی مگر عالمی میڈیا نے اس مسئلے کا مکمل بلیک آؤٹ کیا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’قبلہ اوّل پرحملہ کیاگیا، نہتےفلسطینیوں پربمباری کی گئی، اس معاملے پر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کا اجلاس بلانے کی درخواست کی، جس پر جنرل اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کو پاکستان نے اس معاملے سے آگاہ کیا، پاکستان نے او آئی سی کے پلیٹ فارم پر فلسطین کی وکالت کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’فلسطین سے متعلق سلامتی کونسل کی4 نشستیں بےنتیجہ رہیں مگر پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم کے ساتھ مل کر جینیوا میں مغربی دنیا کو جھنجھوڑا اور اسرائیلی مظالم کو بے نقاب کیا، جس پر اسرائیل کو سرنڈر کرنا پڑا اور نہ چاہتے ہوئے بھی فیصلے پر نظر ثانی کر کے پیچھے ہٹنا پڑا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’مغرب کے ممالک میں فلسطین کیلئے آوازا ٹھائی تو یہودی لابی نے مجھ پر حملہ کیا، جس پر پاکستان کا بچہ بچہ میرے دفاع میں کھڑا ہوا، انٹرویومیں منصوبہ بندی کے تحت مجھ پر چڑھائی کی گئی، جس کا بھرپور جواب دیا، 48 گھنٹے بعد جب یوٹیوب پر انٹرویو دیکھا تو 30 لاکھ سے زائد لوگ اسے دیکھ چکے تھے‘۔

شاہ محمود نے کہا کہ ’فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی گئی،اقوام متحدہ کےفورم پر واضح مؤقف اختیار کیا کہ ہماری نظریں فلسطین اور کشمیر پر ہیں، ہم فلسطین اور کشمیر کے مسائل سے اقوامِ عالم کو آگاہ کرتے رہیں گے‘۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’قومی اسمبلی اور سینیٹ کی متفقہ قرارداد نے واضح کیا ہم فلسطین اور کشمیر کے معاملے پر متحد ہیں، فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی تمام جماعتوں کا مؤقف ایک ہی ہے‘۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’مارچ2022میں مسلم ممالک کے وزرائےخارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دوں گا اور پھر انہیں مسئلہ کشمیر کی صورت حال سے آگاہ کروں گا تاکہ اس معاملے پر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا واضح مؤقف لیا جائے۔

LEAVE A REPLY