مریخ کے بارے میں اہم انکشاف!

0


مریخ پر دریافت ہونے والے کاربن کے ذخائر سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ وہاں قدیم حیاتیاتی زندگی بھی ہوسکتی ہے

انسان نے جب سے خلا میں قدم رکھا ہے مریخ اس کی توجہ کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے، یہاں زندگی کے وجود کی تلاش کے لیے اب تک سینکڑوں تحقیقات کی جاچکی ہیں تاہم اب تک مریخ پر زندگی کے ٹھوس شواہد نہیں مل سکے ہیں، حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق بھی اسی سمت ایک قدم ہے۔

ناسا کے کیوریوسٹی روور نے مریخ پر کاربن کے ذخائر دریافت کیے تھے جس کا مطالعہ کرتے ہوئے ماہرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مریخ پر کاربن کے ذخائر کی ممکنہ طور پر تین وجوہات ہوسکتی ہیں ان میں سے ایک وہاں قدیم حیاتیاتی زندگی کا امکان بھی ہے۔

امریکی ریاست پینسلوانیا کے ماہرین کے مطابق اس کاربن کی وجہ خلائی دھول یا کاربن ڈائی آکسائیڈ کا الٹراوائلٹ بریک ڈاؤن بھی ہوسکتا ہے۔

ایک تیسری تھیوری بیکٹیریل تھیوری کے مطابق زیر زمین رہنے والے مائیکرو حیاتیات جو میتھین پیدا کرتے ہیں وہ سطح پر پہنچ کر الٹراوائلٹ شعاؤں سے ٹوٹ جاتی ہے۔

محققین کی بتائی گئی تینوں صورتیں غیر روایتی ہیں کیونکہ زمین پر عموماْ یہ عمل نہیں ہوتے۔

واضح رہے کہ کیوریوسٹی روور 6 اگست 2012 کو مریخ کی سطح پر اترا تھا اور اس وقت سے وہ وہاں گڑھے میں گھوم کر چٹانوں کے نمونے جمع اور ان کا تجزیہ کرکے ڈیٹا زمین پر بھیج رہا تھا۔

کیوریوسٹی کو مریخ پر کم از کم 6 جگہوں پر قدیم ذخائر سے کاربن ملا ہے۔

مقالے کے مصنف اور پینسلوینیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر ارضیات کرسٹوفر ہاؤس نے کہا ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں کاربن-12اور کاربن-13 کی مقدار اتنی ہے جتنی اس کی تشکیل کے وقت تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں آئسوٹوپس ہر چیز میں ہوتے ہیں لیکن کیونکہ کاربن-12، کاربن-13 کی نسبت زیادہ تیزی سے ردعمل دکھاتا ہے، نمونوں کی دونوں مقدار کو دیکھنے سے کاربن سائیکل ظاہر ہوسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY