عوامی مقامات پر قبضہ کرنا وکیلوں کا کام نہیں،سپریم کورٹ

0


سپریم کورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ کو وکلاء کے مزید چیمبرز گرانے سے روک دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وکلا کو عوامی مقامات پر قبضہ نہیں کرنا چاہیئے، ایسی حرکتیں وکلا کو زیب نہیں دیتی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے وکلا کے غیر قانونی چیمبرز گرانے کے حکم کیخلاف 26 فروری برز جمعہ اپیل پر سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر عدالت کے اندر اور باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس گلزار احمد نے روسٹرم پر وکلا کا مجمہ لگنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے وکلا کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ روسٹرم سے پیچھے ہٹ جائیں، سب لوگ آگے کیوں آگئے، کیا آپ کو آواز نہیں آ رہی، ہم وکلا کو اچھی طرح جانتے ہیں، ہم بھی وکیل رہ چکے ہیں، یہ کام کبھی نہیں کریں گے، جہاں کچھ وکیل اکٹھے ہوتے ہیں، کچھ الٹا بولتے اور کرتے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ وکلا اپنی عزت و تکریم پر سمجھوتہ نہ کریں، ہم بھی خود کو وکلا کا حصہ سمجھتے ہیں، وکلا عدالتوں کیلئے جیسی گفتگو کرتے ہیں وہ بھی دیکھیں، یہ کیا طریقہ ہے جہاں 4 وکیل جمع ہوں مائیکرو فون اٹھا کر تقریر شروع کر دی، وکلا عدلیہ کا حصہ ہو کر اس کے خلاف کیا کچھ نہیں کہتے، پبلک اراضی پر چیمبرز بنانے کا کوئی جواز نہیں۔

ان دوارن جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ فٹبال گراؤنڈ پر 3 منزلہ چیمبرز تعمیر کیے گئے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا چیمبرز وکلا کی ذاتی ملکیت تصور ہوتے ہیں، بار ایسوسی ایشن کو چیمبرز لیز پر دینے کا اختیار کہاں سے آگیا ؟ پبلک کی زمین پر چیمبرز بنانے کا اختیار کہاں سے آگیا ؟ ملک میں کہیں بھی گراؤنڈ میں چیمبرز نہیں بنے۔ جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ وکلا چیمبرز کیلئے 5 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے۔

چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی، عدالت کو پریشر میں لانے کی کوشش نہ کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی وکیل نے پریکٹس کرنی ہے تو اپنا دفتر خود بنائے، عوامی مقامات پر قبضہ کرنا وکیلوں کا کام نہیں ہے۔ کیس کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک مزید کارروائی نہ کی جائے۔

LEAVE A REPLY