سینیٹ کے انتخابات اور حکومت کے خدشات

0


حکومت نے جمہوریت کو شدید دوغلے پن کا شکار کر دیا ہے۔ ایک وہ جمہوریت ہے جس کی مثال ہر وقت خان صاحب کی زبان پر ہوتی ہے، جس میں چھوٹے بڑے سب قانون کے سامنے برابر ہوتے ہیں۔
خان صاحب اکثر ایسے معاشرے کا ذکر کرتے ہیں جہاں سب قانون کی نظر میں برابر ہوتے ہیں، جہاں انصاف کا بول بالا ہوتا ہے، جہاں غریب آدمی کو بھی وہی شہری حقوق حاصل ہوتے ہیں جو کسی امیر شخص کو حاصل ہوتے ہیں، ایسا معاشرہ جہاں حکومت اور اپوزیشن مل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں، جہاں اسمبلیاں عوام کی خواہش کی ترجمانی کرتی ہیں، جہاں عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں، جہاں ووٹ کو عزت دی جاتی ہے۔
جہاں ایوانِ زیریں اور ایوانِ بالا عوامی مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کرتے ہیں، جہاں قیمتوں میں ذرا سے اضافے سے حکومتیں الٹ دی جاتی ہیں، جہاں مزدوروں کی یونین ہوتی ہیں۔
جہاں طلبہ سیاست میں اہم کردار کرتے ہیں،جہاں ہارس ٹریڈنگ گناہ تصور ہوتی ہے، جہاں ارکان کی خرید و فرخت جرم سمجھی جاتی ہے، جہاں ٹیکس امیروں پر لگتا ہے اور پالیسیوں میں غریبوں کو ریلیف ملتا ہے، جہاں جھوٹ بولنا کسی سیاست دان کی سیاست کی موت تصور ہوتا ہے۔
یہ وہ تصور ہے جس کا خان صاحب اکثر اپنی تقاریر میں ذکر کرتے ہیں لیکن تصور اور طرزِ عمل میں بہت واضح فرق ہوتا ہے۔
ان صاحب کا تصورِ جمہوریت ان کے طرزِ حکومت سے بہت مختلف ہے۔ خان صاحب کا طرز جمہوریت یہ ہے کہ کسی کے زورِ بازو کو استعمال کر کے انتخابات میں حصہ لینا اس طرزِ جمہوریت میں سب جائز ہے، سب چلتا ہے۔
اقتدار کی ہوس کے لیے کسی چیز کی ممانعت نہیں ہے، کوئی کام برا نہیں ہے، کوئی حیلہ مکروہ نہیں ہے۔ اس جمہوریت میں یوٹرن کو مباح بھی تصور کیا جا سکتا ہے، قیمتوں میں اضافے کا بم ہر روز عوام پر گرانے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
طرزِ جمہوریت اور تصورِ جمہوریت کا یہی فرق سینیٹ کے الیکشن میں خفیہ رائے شماری کے خلاف آئینی قرارداد کا سبب بنا ہے۔

جب تک پی ٹی آئی اس خفیہ رائے شماری سے مستفید ہوتے رہی یہ جائز رہی اور جوں ہی خان صاحب کی حکومت کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ یہی آزمودہ ہتھیار ان کے خلاف استعمال ہونے والا ہے انھیں وہی تصور ِجمہوریت یاد آ گیا جہاں ارکان کی خرید فروخت گناہ تصور کی جاتی ہے۔
یہی سینیٹ جہاں اپوزیشن اکثریت کے باوجود اپنے چیئرمین کو منتخب نہ کر سکی تو سیاست کی داد دی گئی۔ لیکن اب اچانک سے ’اصلی اور وڈی جمہوریت‘ کی یاد آگئی، سپریم کورٹ میں بھی درخواست داغ دی گئی، اسمبلی میں بھی قرار داد پیش کر دی گئی، شو آف ہینڈز کے حق میں بہت لوگ سرگرم ہو گئے۔
یہی سینیٹ تھا جب چودھری سرور سینیٹ کے رکن بنے تھے، نہ ارکان ساتھ تھے، نہ مطلوبہ نمبر میسر تھے مگر جادو کی چھڑی سے نتیجہ ایسا آیا کہ لوگ سیاست کی ایسی چال پر عش عش کرنے لگے۔ درونِ خانہ ایسی کایا پہلے بھی کئی دفعہ پلٹ چکی ہے۔
سوال یہ ہے کہ خان صاحب کو خدشہ کیا ہے؟ بات سامنے کی ہے پہلا خطرہ اتحادی جماعتوں سے ہے کہ وہ ایسے میں ہوا کا رخ دیکھ کر کہیں اور سجدہ ریز نہ ہو جائیں۔
دوسرا خطرہ خان صاحب کو اپنی جماعت کے ناراض ارکان سے ہے جو گروپس بنا بنا کر مسلم لیگ ن کی قیادت سے چوری چھپے مل رہے ہیں۔

تیسرا خطرہ خان صاحب کو ان سے ہے جن کے سہارے ان کی حکومت قائم ہے۔
چوتھا خطرہ خان صاحب کو پی ڈی ایم سے ہے کہ اگر اس دفعہ جو پی ڈی ایم ذرا خاموش ہوئی ہے تو کہیں پھر یہ فتنہ کھٹرا نہ ہو جائے۔
پانچواں خطرہ خان صاحب کو اس عوام سے جو مہنگائی کے سبب روز بہ روز بپھرتی جا رہی ہے۔
چھٹا خطرہ خان صاحب کو اپنی جماعت کی اس قیادت سے ہے جو ان کی موجودگی میں تو خوشامد کی حد کر دیتے ہیں مگر خان صاحب کی پیٹھ پیچھے اس جماعت کی قیادت کو سنبھالنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
آخری خطرہ خان صاحب کو عدلیہ سے ہے چاہے وہ فارن فنڈنگ کیس ہو، چاہے وہ براڈ شیٹ کی ادائیگی کا معاملہ ہو، چاہے وہ ابراج گروپ کے الزامات ہوں یا چاہے وہ آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا معاملہ ہو۔
سینیٹ کا الیکشن اپوزیشن اور حکومت کے لیے ٹیسٹ کیس ہے دیکھیے کون اس ٹیسٹ میں فیل ہوتا ہے اور کون ترپ کی چال سے دوسرے کو مات دینے میں کامیاب ہوتا ہے۔

LEAVE A REPLY