بنگلادیش کے آرمی چیف نے قاتلوں کو فرار کرانے میں مدد کی،میڈیا رپورٹس

0


بنگلادیش میں عوامی لیگ کے کارکنوں کے ہاتھوں مرنے والے شخض کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بنگلا دیش کے آرمی چیف نے قاتلوں کو فرار کرانے میں مدد کی، جو ان کے بھائی ہیں۔

معروف خبر رساں ادارے الجزئرہ اور عرب میڈیا کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق بنگلادیش سے تعلق رکھنے والی فیملی کی جانب سے اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ بنگلادیش کے آرمی چیف قتل نے ملزمان کو ملک سے فرار کرایا ہے، جو قتل میں ملوث تھے۔ یہ ملزمان آرمی چیف کے بھائی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنرل عزیز نے اپنے ایک بھائی کو ہنگری، جب کہ دوسرے بھائی کو ملائیشیا فرار کرایا ہے۔ بنگلہ دیشی آرمی چیف کے دونوں بھائی، وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے باڈی گارڈ بھی رہ چکے ہیں۔

اہل خانہ کے دعویٰ پر بنگلادیش کی وزارت خارجہ نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔

جرمنی میں مقیم حسن ماہیدی منا کے مطانق قاتلوں نے ان کے انکل کو سرعام ڈھاکہ کی سڑک پر گولیوں کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ وہ فریڈم پارٹی کا حصہ تھے، مگر اس میں کوئی حقیقیت نہیں۔ میرے انکل کا کبھی کسی ایسے گروہ یا تنظیم سے واسطہ نہیں رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بنگلادیش کے آرمی چیف نے فرضی نام اور جعلی دستاویزات کے ذریعے اپنے بھائی حارث کو ہنگری میں کاروبار بھی شروع کرکے دیا۔ حارث کا شمار شیخ حسینہ کے قریبی وفاداروں میں ہوتا ہے۔

بنگلادیشی آرمی چیف کے بھائی ملزم جوزف کو قتل میں صدارتی معافی ملنے کے بعد بنگلادیشی وزیراعظم کی جانب سے عزیز احمد کو فوری طور پر آرمی چیف کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

حسن ماہیدی کی جانب دے عائد الزامات پر بنگلادیش فوج کی جانب سے فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ الجزیرہ رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان مسئلہ پرانی سیاسی رقابت کا ہے۔ جو سالوں سے چل رہا ہے۔

LEAVE A REPLY